Wednesday, 18 September 2013

Column Zain Abbas (Islamabad)


زین عباس۔ اسلام آباد
یہ خط میں چلتے پھرتے غلام لاشوں کے درمیان سے ایک ایسے گمنام دوست کے نام لکھ رہا ہوں جو قدیم فراعنہ کا غلام رہا اور قدرت انسانی اور حسنِ صناعی کی عظیم معجز نمائیوں کے بعد وہیں ان کے پہلو میں ہزاروں غلاموں کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔۔۔

’’میرے دوست! تم پر سلام ہو کہ تم نے انسانیت کی لاج رکھی ، انسانیّت کے مزاج کا عروج تمہارے ہی دم سے آج تک زندہ ہے، تم نے اپنی جان اور اپنی تمام تر صلاحیات استعمال کر کے اپنے آقاؤں کی مرضی پوری کی۔ میرے دوست! میں آج تم سے مخاطب ہوں کہ میں تمہارا جانشین ، تمہارا ہم پیشہ و ہم مشرب ہوں، یعنی میرا تعلق بھی ایک غلام قوم سے ہے،ایک ایسی قوم سے جو اپنی تمام تر قوات کا استعمال اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کر رہی ہے۔

ٍٍ عزیزِ من ! آج تک ہزاروں لوگوں نے تمہارے بارے میں بات کی ہے، تمہاری بے بسی کے بارے میں، تمہاری مظلومیت کے بارے میں ۔ کسی نے تمہاری وفاداری کے گن گائے تو کسی نے تمہاری لاچاری پہ آنسو بہائے۔مگر تعجب ہے کہ آج تک تم سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ جو میں تم سے اور خود اپنے آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔

آج میں چاہتا ہوں کہ تم سے پوچھوں ، کہ میرے ذہن میں کچھ الجنھیں پروان چڑھ رہی ہیں، کچھ سوال ہیں جو میں خود سے پوچھ رہا ہوں، کچھ سوال ہیں جو لوگ مجھ سے پوچھیں گے، میں چاہتا ہوں کہ تم سے انکے جواب مانگوں پیشتر اسکے کہ میں لا جواب ہو جاؤں۔ قبل اسکے کہ میں اس قابل بھی نہ رہوں کہ تم سے جواب مانگ کر خود کو تسلی دے سکوں۔

میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک غلام قوم میں آنکھ کھولی، تمہاری تربیت میں برداشت اور اطاعت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تم بچپن ہی سے اپنی استطاعت سے زیادہ کام کرنے کے عادی رہے۔،تم سخت دل اور سخت جان پروان چڑھے۔ تم نے بہت زخم سہے مظالم برداشت کئے لیکن اپنے کام میں جتے رہے اور انسانیت کے عظیم شاہکار تعمیر کرتے رہے۔ دنیا تمہیں آج بھی اس بات پہ سراہتی ہے، آج بھی تم محنت کا نشان سمجھے جاتے ہو، مگر میں، یعنی تمہارا جانشین ۔ ہاں خود میں تم سے اسی بات پہ نفرت کرتا ہوں ، یہی سوال کرتا ہوں تم سے کہ ،آخر کیوں اپنی سخت جانی اور اپنی مضبوطی کو آزادی کے لئے استعمال نہ کیا۔ کیوں اطاعت کی بجائے بغاوت پہ مظالم نہ سہے۔ کیوں فقط یہ اعلان نہ کر سکے کہ تم غلام نہیں آزاد ہو۔ تمہارے دوست ، تمہارے رشتہ دار تمہاری آنکھوں کے سامنے مرتے رہے، تمہارابھائی تمہارے ساتھ سے ایک پتھر کے نیچے دب کے مر گیا، تمہارے دوست فاقہ کشی اور درّوں کی اذیّت نہ سہہ سکے اور تمہیں چھوڑ گئے۔

 تم پھر بھی اپنی زبان سے اپنے آقاؤں کے ظلم کا اعتراف نہ سکے۔ تم پھر بھی بغاوت نہ کر سکے،۔کیوں !!! کیوں فقط ایک اعلان کر کے خود کو ہمیشہ کے لئے سر بلند نہ کر لیا تا کہ غلامی کے یہ ضابطے اور یہ سلسلے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتے۔ کتنا مشکل تھا، مر مر کے جینے کی بجائے ایک ہی بار مر کر ہمیشہ کے لئے امر ہو جانا۔ آج ان ہزاروں غلاموں کے ساتھ اجتماعی قبر میں پڑے ہونے کی بجائے وہ جگہ جہاں تمہیں سولی دی جاتی آزادگانِ جہان کے لئے زیارتگاہ ہوتی۔ آج تمہیں غلام کہہ کر ترس کھانے والے تمہاری حریّت کو سلام کرتے۔

عزیز من! 
ہم آج بھی وہی ہیں ،ترقی پذیر ممالک کی عوام، تیسری دنیا کے لوگ، پسماندہ علاقوں کے باشندے، غریب ملکوں کے شہری،یہ سب میرے ہی نام ہیں۔ہم آج بھی تمہاری تمام روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں، بس انداز ذرا بدل گئے ہیں۔ آج ہم آزاد کہلاتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے کچھ لوگوں نے ہمیں، ہمارے نجی معاملات میں آزادی دلوا دی تھی۔ اب ہمیں اپنے ذاتی معاملات خود طے کرنے کی اجازت ہے، ہمیں درّوں کی اذّیت نہیں سہنی پڑتی، بھاری پتھر نہیں اٹھانے پڑتے، انہیں خدا کہہ کر اپنے جسم انکے سامنے نہیں جھکانے پڑتے۔ اب ہمیں آہنی زندانوں میں نہیں رکھا جاتا، نہ ہی زنجیروں سے باندھا جاتا ہے، مگر ایسا بھی نہیں کہ ہم آزاد ہی ہو گئے ہیں۔آج بھی ، ہاں اس وقت بھی ہم ان دیکھی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں،ہماری گردنوں میں معاشرت کے طوق ڈلے ہیں،ہمارے جسم روایات کے حلقوں میں جکڑے ہوئے ہیں،اور یہ سب دام انہی کے لگائے ہوئے ہیں۔

ایک اور فرق بھی ہے، تمہاری اور ہماری غلامی میں، وہ یہ کہ تمہاری غلامی جبراً تم پہ مسلط کی گئی تھی، جب کہ ہم نے اختیاری طور پر اسے قبول کیا ہے۔ ۔ جب کبھی، مجھ میں وہ آزاد انسان ،جو میرے خالق نے پیدا کیا تھا، جاگتا ہے تو مجھے اپنی اس زندگی سے نفرت ہو جاتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ میں آزاد ہو جاؤں مگر شاید غلامی کی بے فکری ،آزادی کی بھاری ذمہ داریوں پہ غالب آجاتی ہے،پھر ان ذمہ داریوں کے ڈر سے میں چاہتا ہوں کہ آزادی بھی مجھ پہ جبراً مسلط کر دی جائے تا کہ میں غلامی کی ان لذات کے کھو جانے پر پشیمان نہ ہو سکوں۔ 

اب جواب دو ! مجھے جواب دو ،کہ میں نے یہی جواب آنے والی ہزاروں نسلوں کو دینا ہے، یہی جواب اس امید کو دینا ہے، جو میرے اندر مجھے بغاوت پہ اکسا رہی ہے، یہی جواب مجھے ان آزاد لوگوں کو بھی دینا ہے، جو مجھے دعوتِ فکر و عمل دے رہے ہیں۔اورہاں !یہی جواب مجھے اس ہستی کو بھی دینا ہے کہ جسکی عدالت صرف میری آزادی کی منتظر ہے ،جسکی نظریں میرے اور میرے جیسے ہزاروں غلاموں کے ہاتھوں پر ہیں کہ ہم کب اپنی زنجیریں توڑ کر انہیں لوح و قلم میں ڈھالیں اور وہ اس پہ تقدیرِ انسانی کواز سر نوآزاد ہاتھوں سے مرتب کروائے۔

مگر مجھے ایک اور سوال کا جواب بھی دینا ہے اور وہ یہ کہ میں نے اس غلای کو دل و جان سے کیوں قبول کر رکھا ہے، کاش اس سوال کا جواب بھی میں تم سے مانگ کر خود کو مطمئن کر سکتا۔۔۔۔کاش یہ رسم بھی کسی پیش رو نے ڈالی ہوتی۔۔۔ مگر شاید ہم میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ نیاتو کرناہی ہے؟؟؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو اب کی بار وہ نیا کام آزادی ہی کیوں نہ ہو!!! اگر ایسا ہو جائے تو شاید تمہارے جواب کی حاجت نہیں رہیگی،اور نہ ہی آنے والی نسلیں مجھ سے ایسے سوال کرسکیں گی
تمہاراباغی دوست!۔


No comments:

Post a Comment